اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، جامعہ ادیان و مذااہب کے بین الاقوامی امور کے معاون حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر محمد مہدی تسخیری نے ابنا سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ رہبرِ شہید کی شخصیت قومی سرحدوں سے بالاتر تھی اور وہ امتِ مسلمہ کے لیے عزت، وقار اور مزاحمت کی علامت تھے۔
انہوں نے کہا کہ رہبرِ شہید کی تشییع کو صرف ایک تعزیتی تقریب کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، بلکہ یہ ایسا تاریخی موقع ہے جو عالمِ اسلام میں مشترکہ شناخت، انصاف پسندی، مزاحمت اور مشترکہ تمدنی اقدار کے گرد مسلمانوں کے اتحاد کو نئی جہت دے سکتا ہے۔
ڈاکٹر تسخیری نے کہا کہ رہبرِ شہید کی مقبولیت جغرافیائی حدود سے آگے بڑھ چکی تھی اور وہ مسلمان اقوام اور محاذِ مزاحمت کے لیے ایک عظیم روحانی سرمایہ بن گئے تھے، جو آئندہ بھی عالمِ اسلام اور خطے کی سیاسی و سماجی تبدیلیوں پر اثرانداز ہوگا۔
انہوں نے رہبرِ شہید کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان کے بلند انسانی نظریات اور ولایت سے وابستگی کا مکمل احاطہ کرنا آسان نہیں، تاہم ان کی عالمی مقبولیت کی کئی اہم وجوہات ہیں۔
ڈاکٹر تسخیری کے مطابق رہبرِ شہید کی سب سے نمایاں خصوصیت عالمی استکبار کے مقابلے میں ان کی اخلاقی قوت اور ثابت قدمی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا سب سے بڑا سرمایہ حق گوئی، شجاعت اور قول و عمل کی یکسانیت تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے دور میں جب دنیا کے بہت سے سیاسی رہنما بڑی طاقتوں کے دباؤ یا مصنوعی سفارتی مصلحتوں کے تابع تھے، رہبرِ شہید نے مضبوط منطق اور دوٹوک مؤقف کے ساتھ اسلامی تشخص اور آزادی کی آواز بلند کی۔ ان کی یہی استقامت ان مسلمان اور مظلوم اقوام کے لیے امید اور حوصلے کا باعث بنی، جو برسوں سے استعماری طاقتوں کے تسلط کے باعث احساسِ محرومی کا شکار تھیں۔
آپ کا تبصرہ